مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اگر ڈیموکریٹس امریکہ کے وسط مدتی انتخابات جیت کر کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں وسیع تحقیقات شروع ہوں گی۔ ان میں معاشی اور امیگریشن پالیسیوں کے علاوہ ٹرمپ اور اس کے خاندان کی کاروباری سرگرمیاں، ایران کے خلاف جنگ اور صدارتی اختیارات کے استعمال کا طریقہ بھی شامل ہے۔
پہلا معاملہ: خاندان کی کاروباری سرگرمیاں اور امیگریشن
ٹرمپ خاندان کی ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری، ان سے وابستہ کمپنیوں کے سرکاری ٹھیکوں اور ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے امور میں ان کے نمائندے جیرڈ کشنر کی سرگرمیوں کی جانچ ہوگی۔
ڈیموکریٹس امریکی امیگریشن و کسٹمز ادارے (آئی سی ای) کی کارکردگی، تارکینِ وطن کی حراست کے حالات اور حراستی مراکز چلانے والی نجی کمپنیوں کے ٹھیکوں کا بھی جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
دوسرا معاملہ: جیفری ایپسٹین کیس
ایپسٹین کیس اور اس کی دستاویزات و شواہد سے محکمۂ انصاف کے نمٹنے کے طریقے کی تحقیقات۔
تیسرا معاملہ: ایران کے خلاف جنگ
ایران کے خلاف امریکی جنگ کے بھاری اخراجات، اس سے ہونے والے نقصانات اور جنگ شروع کرنے کے ٹرمپ کے اختیارات کا جائزہ۔
چوتھا معاملہ: مہنگائی اور تجارتی معاملات
زندگی کے اخراجات، صحتِ عامہ اور تجارتی ٹیرف۔
پانچواں معاملہ: محکمۂ انصاف کا سیاسی استعمال
محکمۂ انصاف کے سیاسی استعمال، ٹرمپ کے ناقدین کے خلاف کارروائی، سرکاری ملازمین کی برطرفی اور وفاقی اداروں اور پروگراموں کی بندش یا کمی کی جانچ۔
چھٹا معاملہ: قرض اور خسارہ
امریکی قرض میں اضافہ، ٹیکس کٹوتیوں، فوجی اخراجات اور تجارتی ٹیرف کا بجٹ خسارے پر اثر، اور قانونی حدِ قرض سے تجاوز کا امکان۔
پوچھ گچھ کا امکان
ٹرمپ سے پوچھ گچھ کا امکان زیرِ بحث ہے، تاہم ڈیموکریٹ قیادت اسے پارٹی کی اعلان کردہ ترجیح نہیں سمجھتی۔
آپ کا تبصرہ